2

سرگوشی امروز

سرگوشی امروز کہ لیے دبایئے

ھر کسی از زن خود شد یارِ من
از درونِ من نجست اسرارِ من

متعلق | سرگوشی مرات

متعلق

Share this post

سرگوشی عشق جو یکتا دل کی جنگِ تنہائی کی عکاسی ہیں انفرادی معاز مایوسی کہ دیو کہ مقابل میں۔

یہ تین سرگوشیاں ہیں میرے دل کی۔ وہ جو یہاں پائینگے، وہ جو تشکیلِ کتاب میں میرے محبوب نظر کے لیے۔ اور آخر وہ، جن سرگوشیوں کی آواز میری روح سے لبریز ہیں ۔ وہ جو صرف میرے کامل روح کے اتحاد کو سنای دیں۔

میری لاتمام جہنم کی مستقل بھڑکتی ہوئی آگ، جو چند اک گل اس تپشِ چنگاریوں سے نکال پاتا ہوں ۔ آپ کو واپس لادیتا ہوں۔ وہ آگ البتہ، کوشش کرتا ہوں اپنے مقام سے کبھی باہر نہ بہ پاے۔ ناکام رہتا ہوں، ہر مرطبہ، مسقل۔

ہم میں اِک لامعالا رجھان ہے چیزوں کو غلط اسموں سے نوازنے کا۔ نام تشریحاتِ معنی کی رہبری کرتا ہے۔ اُسکا دقیق ہونا لازم ہے۔ میرے والد نے معشرتی روایت سے مجھے اسم “اسعد” سے نوازا ۔ یعنی ‘پیغامِ خوشی یا سعادت دینے والا’ ۔ میں اپنے والدین کی تفقر کی تشریح کا کمان تو نہیں رکھتا، مگر جس نظر پہ مرا سایہ پڑتا ہے، اور شاید اکثر دوجوں کا بھی، تعن آمیز۔


اسم سے نوازنے کے لیے اصلِ روح کا عرف ضروری ہے۔
کون میں؟ کہو حنابند مجھے نہ کہ اسعد
وصل عشق بھی کیا وجود سے پاک نہ ہوگا؟


جس لمحے سے میں اور میری اصلِ حیات کی ملاقات رہی، ہماری انجمنِ محبت اور سرگوشیاں لاوقف رہیں۔ ہماری شادی کہ پہلے ہی سال سے جب وہ نیند کہ سائے خوابوں کے سفر کرتی، اُن اندھیروں میں اُسکو دیکھتے خطوط قصد کرتا تھا۔ ناگزیر اجتناب تھا شاید میری سرگوشیاں میرا کمل حصٗہ بن جایں حتٰی جب دیکھنے والی آنکھ بند ہوں اور سننے والے کان غیرحاضر ۔ میرے عشق کی سرگوشیاں جاویدانِ رواں رہیں۔

یہاں محبت کی سرگوشیاں کرتا ہوں، اک امروز کی مایوسی کے شیاطین، انا، ناامیدی، موت، زیاں، احساسِ خیانت و فریب، غصہ و غضب، ڈپریشن، اور پھر اِن میں سب سے شورانگیز، بلند آواز، کبھی خاموشی اختیار نہ کرنے والے، خودکشی کے وسوسے پھونگنے والے دیو۔

“امروز جنگ نہیں بلکہ براٗے وجود کا جہاد جو اکثر لمحے شکستہ رہتا ہے۔ مستقل، بےتدریج ناکامیاں۔”

وہ چند اوزار جو کرنِ حیات کی دھیمی روشنی کا سفر آمادہ کرتے ہیں، اِن تمام ویرانیوں میں ۔ میں ہم سخن کرتا ہوں شاید آپ کے سفرِ تپش میں تھوڑی نمی ہو جاے۔ اور اگر ایسا نہ بھی ہو، تو کم از کم، آپ کو احساس ہوگا آپ تنہا نہیں ہیں۔ وہ جو خود کہ ہر لمحے یہی یاد دلاتا ہے، آپ کو بھی یہی کہ رہا ہے، آپ کی تقدیر کے خزانے آپ خود بھی اِس الرحمٰن و الرحیم کی قائنات میں غارت نیہں کرسکتے۔ تو پھر لاتقنتو! صبر و یقین ۔ ناممکن صفات، فقط یہی ذرائع ہیں۔

اور اگر کسی روز میں اپنے شیاطین سے معاذاللٰہ ہار جاوں، اور اُنکی قیدِ مایوسی کا شکار ہوجاوں کہ اُنکی ارضِ موت سے کوئی کھینچ نہیں پاتا، وہ جن کی مٹھی میں میری روح قبض ہے مجھ پر اپنی رحمت کی شفاءِ محبت کا سایہ مجھے نوازیں، ۔ تو آپ میرے اشتبھات سے سیکھ لینا، میں انگنت کرتا ہوں، لاوقف، بےنییت۔


کون میں؟ اِک افسونِ جنوں میں خاکدر
مست اپنے اندیشِ نم میں در با در
کبھی ترنمِ لا کی عکاسی میں

کبھی جوہرِ حبا سے با خبر
کہ اسعد نہیں فطرتِ حنا کا ہے
مجنوں کہے زمانہ بےنظر، بےخبر

Share this post