سرگوشی امروز

سرگوشی امروز کہ لیے دبایئے

1

میں کیوں انہیںؐ اپنا آقاؐ کہتا ہوں؟

تصادفِ میرات

میں کیوں انہیںؐ اپنا آقاؐ کہتا ہوں؟ چونکہ، بلاشبہ، کیا آپؐ سراحِ ظھور و ابراز تخلیق میں صورتِ کل کی نہیں ہیں؟ خالق کی حق و صادق عکسِ تخلیق؟؛ کہ اگر آپ کی اخلاقیات یا تہذیبِ حاض حاضر کا امر بضد ہو میرے والد کو میرے والد نہ کہ کر بلانے پر بلکہ انکے نام سے پکارنے پر تو کیا مجھے آپ کہ باطل فضیلوں کی ذرہ برابر بھی پروا کرنی چاہیئے؟ حسن ظھور کا آرزومند ہے؛ لہذا صرف حسین ہی آینہ کا عاشق ہوتا ہے۔ جب آپ میرے بزرگوں کی، استادوں کی بےحرمتی کرتے ہیں، تو آپ نے میرے لہرِ جنوں کے روانِ امن میں تخریب پیدا کی ہے؛ پھر حیران نہ ہوں میرے ظاھری متاجاوز رد عمل پر۔ جب ہم تاریخی اساتذہ اور لوگوں کا ذکر کرتے ہیں، تو ہم مخلصانہ طور پر اُن کے کردار کے بارے میں کیا فھم راست رکھتے ہیں؟؛ اور، بنصبت انسان، کیا ہم میں یہ نابض رجحان نہیں ہے موکد روئیوں کی عظمت مبالغہ کرنا اور سانحات کی جب ہم فردِ ثانی کی بات کرتے ہیں؟ تو، پھر ہمیں صرف اور صرف، اگر ہمیں کرنی ہی ہے، گفتگو کریں بنیادی قوانین پر جو منطوق حروف میں چھپے ہوں۔ اور میرا بزرگ اور کون ہے، سوائے قبل و حاضر میں، لیکن جس کا میں محتاج ہوگیا ہوں، مع محبت میرے راستے کو روشن کرنے کی بدولت، میرے طریقِ خزارنےء تقدیر۔ اطی اللہ و اطی الرسول؟ اللہ تعالی اور اُن کے رسولؐ اور وہ جو امرِ معروف ہیں۔ (تعلم مع نقاشی؛ کہ میرے آقا نے اپنے مالک کی بے انتہا تقلید کی، تو اُن کی تقلید کرو۔ وہ جو معرفہ و علم کے تجربہ سے روشن ہوے میرے آقا کی نقاشی کرتے تھے، تو اُن کی تقلید کرو۔ تاکہ آپ بھی عرف پالو اور اپنے مالک جیسے ہوجاو: مالک الملک مولاءِ .کن۔ تمام میں آپ کی قوموں سے، معاشروں سے، گروہوں سے، محلوں سے، ممالک سے، قوانین سے، اصولوں سے، اور فرقوں وغیرہ سے ٓمخاطب نہیں ہوں؛ رعاع کو ہونے دیجیےاور حوض مشترکہ سے پینے دیجیے اور اپنے ربط زہر کا مرض وہیں پھیلانے دییجیے۔ میں آپ سے بات کر رہا ہوں، اُس فرد سے، جو تنہا ہے ہے حیوانی ناس سے بھری دنیا میں؛ نہر عظم سے آپ پیوگے، پاک تمام صموم و ناخالصی سے، شراب جاویدانِ حیات۔ شکر کرو کے آپ بدبخت ہو؛ کہ اگر مرضِ عام کا شکار ہوتے، تو شفاء تریاق کی تلاش کیونکر کرتے؟ دوا امراضِ تمام۔ آپ کا غلبہ کامل وجود۔ نقلِ حق الخالق جیسے خود خالق ہوجاؤ نقشِ حق میں۔ کہ سب واحد ہے، بہر کا اِک قطرا، بہر ہی ہے۔ اللہ تعالہ نے آپؐ کو اپنی صفتِ روف و رحیم سے بیان کیا ہے۔ اور کچھ کہنا باقی رہ جاتا ہے؟

Share this post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

*
*