سرگوشی امروز

سرگوشی امروز کہ لیے دبایئے

1

کیوں ہمیشہ آپ ﷺ کی تعریف کرتا ہوں؟

یہ زبان فارسی کی اصل میرے استاد الله يرحمه سے میرا ضعیف ترجمہ تاویل ہے۔ [اسعد]

حکایت

تھی اک نیچ زن مکہ کی، بلایہ کہ از فسق و فساد تھی جسکی مایہ برائے فسق گر ہوتی پاے بیٹھ جاتی اپنی وصولی پر وہ یار سیٹھ جاتی خوش الحان تھی و چست و نغز گفتار نہ تھا یک نفس اُسکا سنگیت سے بےکار جو پیغمر کی ہوئی آمدِ مدینہ مھر دل بدل دیے تھے مائل جو جنگ و کینہ ھمہ کار مسلمانی قوی ہوئی ز نسخ کفر ایماں مستوی ہوئی در مکہ نما نہ رہا جب فساد و فسق ٹوٹے رواں ہر طرف از پیش و پس پہنچی زن مدینہ حالِ سخت درویش بنزديک پيمبرؐ گئی دلريش فرمایا یہ پیمبر نے ہاں کیوں آمد ہے کیوں کہو کیا ھاجری ہے یا پھر وہئ تاجر اکنوں بھر ایماں کی یہاں آمد تری یا تجارت تھی وجہ آمد تری زن کہیں پھر یہ بولی اے صدر جہاں کہ نہ ایں وجہ کو سفر ہے کیا نہ آں و لیکن یہاں جو مری آمد رسید ہوئی ہے سنی آپکیؐ وصفِ خلق کی تعریف ہوئی ہے آپکیؐ امید عطا پر آئی ہوں بہت دور پس یہ کیا میں نے ہوئی مسکین مھجور پیمبرؐ نے کہا مکہ میں بہت جواں ہے ترا آنا ادھر کو خوام خواہ ہے زن آگے یہ بولی آپکیؐ پیکار و جنگ سے آپکی بیم خنجر و تیر خندنگ سے آپکی صیت قوت و آپکےؐ انداز سے ز فضلِ معجزے و آپکیؐ آواز سے سواران عرب کو پھر بہت سست پایا اب کیوںکر چنے کوئی طوائف کا سایا پیمبرؐ کو خوش آمد ہوئی سخن ھا رزای خود کی دے دی تھی جو تنہا کہاؐ پھر ساتھیوںؓ سے ہر کوئی امروز یاری بخشے چیز کوئی رکھے جو مجھ سے یاری ؓصد نوعیت کہ تحفہ عطاے یاران ہوئی شامل در گروہ سیم میان زنی کو یا رسولؐ ﷲ کہ دور ہے میان شرک در فسق و فجور ہے کہ باندھے آپکیؐ تعریف حرف دو یک بار نوازش آپکیؐ ممکن ہے کہ ہیں مال بسیار لوٹایا پھر نہ اُسکو آپؐ نے نومید خویش نہ روکا خود کا پھر نوازش انعام درویش یہ دانش آپکوؐ ہے کہ وصف توؐ میں عطارؒ گھوما خود کہ ہے سر پر جیسے ہو پرگار اگر خاک سر کوی ہو آپکی دریافت کروں ہر ذرہ خورشید سے دگر یافت جو خاک کوی آپکی وصف بجان ہو قبول پھر یہ کرلیں گر یہ تواں ہو مگر ناامید نہ چھوڑیں اے ناگزیرش جو گرا پائیں اُسے اے دست گیرش جو اُس زن کو ملی آپکی رذای ملے پھر مجھکو بھی آخر نوائی آپکیؐ ہے دونوں جہاں کی بادشاہی ہے یہ آپکوؐ تواں داد تشریف الھی بتشریف مشرف کریں اِس تن کو کہ خود کی خبر نہ ہو پیراھن کو بتوحید دل کریں گرداں مزین کہ ناتواں ہو در جسم معین نہیں لیکن غرض جز بےنشانی مگر بولوں کیوں آپؐ دانی و توانی غلامی بر دل کی ہے اور کچھ بھی نہیں کہ دل دائم غلام آپکاؐ اور کچھ بھی نہیں نا راہت ہے کروں یہ استطاعت کہ گویم اِس گدا کی کر شفاعت پیادہ گر یک مسکین محتاج کوئی نہ استطاعت چلے حاج جو دیکھے مضطرب صاحب نصاب بھلا محروم کرے کیسے اسے آب جو آپؐ صاحب نصاب دو جہاں ہیں ذرا میرے لبوں کو بھی چکھا دیں کہ ہے یہاں تف و دھواں سینہ پرتاب جگر تازہ کریں میرا از شربت آب وگر آپکےؐ آب نیم کے قابل نہیں ہم نہ بہنے دیں آب مدہ میں وﷲ اعلم

Share this post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

*
*